قطعہ
دھوکہ کشمکش مضطرب اک نہیں کئی ہیں سوچ۔میرا غم پوچھ نا اک نہیں کئی ہیں سوگ۔ہم نے ہنس مکھ کہا: مرحبا وہ گئے دے کے روگ۔کیا خبر کب ڈسے، آستین میں چھپے، اک نہیں کئی ہیں لوگ
کھولیں ←
راجہ احمد
قطعہ
دھوکہ
Yashwa Arif
قطعہ
دنیا
Yashwa Arif
قطعہ
اسلامی
نقی نقوی
قطعہ
درد
نقی نقوی
قطعہ
باپ
نقی نقوی
قطعہ
درد
نقی نقوی
قطعہ
دنیا
نقی نقوی
قطعہ
محبت
نقی نقوی
قطعہ
دل
نقی نقوی
قطعہ
بے وفائی ابھی یہاں کوئی شاعری نہیں۔