اردو والی پوئٹریUrdu Wali Poetryउर्दू वाली पोएट्री
واپس

دور سے لوگ بھی کیا خوب نظر آتے ہیں

میں نے سوچا ہے تمہیں، اور بہت سوچا ہےدور سے لوگ بھی کیا خوب نظر آتے ہیںپاس آتے ہیں تو کھل جاتے ہیں چہروں کے نقابکتنے چہرے ہیں جو چہروں میں چھپے جاتے ہیںہم نے چاہا تھا جنہیں اپنی حقیقت کی طرحوہ بھی اک خواب کی مانند بکھر جاتے ہیںفاصلہ صرف جدائی کا سبب کب ٹھہراکچھ تعلق تو بہت پاس بھی مر جاتے ہیںجن کو اک عمر نگاہوں میں بسائے رکھاوہی اک روز نگاہوں سے اتر جاتے ہیںہم سمجھتے تھے کہ خاموشی محبت ہوگیلوگ خاموش بھی رہ کر تو مکر جاتے ہیںکتنی حیرت ہے کہ جن سے تھا اجالوں کا گماںوہی چہرے ہمیں تاریکی میں کر جاتے ہیںہم نے ہر بار محبت کو بچانا چاہالوگ ہر بار نئے زخم ہی دے جاتے ہیںحسنؔ، اب کس سے کریں شکوۂ تنہائی ہملوگ ملتے ہیں، مگر مل کے گزر جاتے ہیں 

نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر حسنؔ
پوسٹ کیا
میر حسنؔ

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا اپنا ہی انتخاب ہے۔ اردو زبان سے گہری محبت اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق ہے۔…

تبصرے (0)

سب سے پہلے داد دیں!

ہمارے شعراء

چینل جوائن کریں