اردو والی پوئٹریUrdu Wali Poetryउर्दू वाली पोएट्री
واپس

عورت

وہ اپنے خواب زمانے سے بھی چھپاتی رہیچراغِ گھر کو اندھیروں میں بھی جلاتی رہیوہ بچپنے میں ستاروں کو چھونا چاہتی تھیبڑی ہوئی تو نگاہیں زمیں پہ لاتی رہینئے مکان کی دیواریں اجنبی تھیں مگروہ مسکرا کے سبھی گوشے پھر سجاتی رہیوہ اپنی نیند بھی راتوں کو بھول جاتی تھیکسی کے خواب کو لوری بنا سناتی رہیکسی نے اُس کی تمنّا کبھی نہیں پوچھیکسی کا غم وہ اُٹھا کر بھی مسکراتی رہیوہ چھوٹے بھائیوں کی راہ میں چراغ بنیہر ایک موڑ پہ جینے کے گُر سکھاتی رہیکہا گیا کہ وہ سردار ہے اسی گھر کیمگر وہ حق کی صدا کس کو جا سناتی رہی؟زباں جو کھولی تو چپ رہنے کی صدا آئیوہ پھر بھی زخم پہ ہمت کے پھول اُگاتی رہینہ اُس کی ذات فقط ماں، نہ صرف بیوی تھیوہ اپنے ہونے کا احساس بھی دلاتی رہیوہ ٹوٹ کر بھی کسی کے حضور جھک نہ سکیوہ اپنے آپ کو ہر بار پھر اُٹھاتی رہیحسنؔ، نہ اُس کو فقط صبر کی مثال بناوہ اپنے ہونے کے معنی ہمیں بتاتی رہیمیر حسنؔ

نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر حسنؔ
پوسٹ کیا
میر حسنؔ

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا اپنا ہی انتخاب ہے۔ اردو زبان سے گہری محبت اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق ہے۔…

تبصرے (0)

سب سے پہلے داد دیں!

ہمارے شعراء

چینل جوائن کریں