اردو والی پوئٹریUrdu Wali Poetryउर्दू वाली पोएट्री
Urdu Poetry

تمام شاعری

راجہ احمد نورالعارفینراجہ احمد قطعہ دھوکہ
کشمکش مضطرب اک نہیں کئی ہیں سوچ۔میرا غم پوچھ نا اک نہیں کئی ہیں سوگ۔ہم نے ہنس مکھ کہا: مرحبا وہ گئے دے کے روگ۔کیا خبر کب ڈسے، آستین میں چھپے، اک نہیں کئی ہیں لوگ
کھولیں ←
تبصرہ
مماہی مغل اقتباس بے وفائی
خیر، اب مجھے اجازت دے آگے بڑھنے کیمیرے اور بھی کئی مسئلے ہیںکب تک روؤں تیرے دکھ میں؟— ~ماہی مغل~
کھولیں ←
— مرزا ادیب
تبصرہ
NoorNoor غزل دل
یہاں کچھ بھی نہیں ہمارادل توڑنے کے بعد لوگ کہتے پھرتے ہیںابھی تو تم ٹھیک تھے اچانک کیا ہو کیا ہےبکواس کرنے کے بعد دل کا حال پوچھتے ہیں
کھولیں ←
تبصرہ
Hurram EylulHurram Eylul قطعہ دل
کہیں کسی کے دل میں گھر کرے کوئی، پر وہاں نہ بنا دےمیرے حصے کی زمین پر کوئی دوسرا مکاں نہ بنا دےکہیں کاٹ نہ دوں میں تیرے سبھی عاشقوں کے ہاتھکہیں تیری محبت مجھے شاہ جہاں نہ بنا دے
کھولیں ←
تبصرہ
Yashwa ArifYashwa Arif قطعہ دنیا
زندگی میں ایسے لوگوں کی قدر کریںجن کا آپ سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہوتالیکن وہ آپ کے ساتھ صرف اس لیے ہوتے ہیں کہآپ انہیں اس دنیا کی مصروف زندگی میں اچھے لگتے ہیں۔
کھولیں ←
تبصرہ
نقی نقوینقی نقوی قطعہ درد
میں تجھ کو یاد بہت کرتا تھا دعا کے بغیرگناہ گار بھی ہوں اور ہوں سزا کے بغیریہ خوف اپنی جگہ کہ ہوا بجھا دے گیدِئے بھی جل نہیں سکتے مگر ہوا کے بغیر
کھولیں ←
تبصرہ
Advertisement
نقی نقوینقی نقوی قطعہ باپ
نہ کی تعمیرِ مکاں اور نہ مکیں آنے دیا،جز ترے دل میں کوئی شخص نہیں آنے دیا۔باپ وہ شمس ہے تُو جس کی تپش نے مجھ پر،ایک قطرہ نہ پسینے کا کہیں آنے دیا۔
کھولیں ←
تبصرہ
نقی نقوینقی نقوی قطعہ درد
کھینچ لائی تمہاری فکر مجھے،ورنہ راس آ گیا تھا ہجر مجھے۔اپنی ہی داستاں سنا آیا،جہاں کرنا تھا تیرا ذکر مجھے۔
کھولیں ←
تبصرہ
نقی نقوینقی نقوی قطعہ دنیا
وہ جس کے ساتھ ہمارے لیے بھلائی نہ تھی،وہی وہ شخص تھا جس میں کوئی برائی نہ تھی۔مری طرف متوجہ جہان ہے سارا،ابھی تو میں نے کسی کو صدا لگائی نہ تھی۔
کھولیں ←
تبصرہ
نقی نقوینقی نقوی قطعہ محبت
سکون جیسے ہو کوئی گمان ماں کے بغیر،کبھی بھی گھر نہیں ہوتا مکان ماں کے بغیر۔مجھے اُسی کی دعاؤں نے کامیاب کیا،
مکمل پڑھیں ←
تبصرہ
نقی نقوینقی نقوی قطعہ دل
ہے ہر اک دل پر یہی مرقوم ماںعشق کا ہے ایک ہی مفہوم ماںزخم کھا کر مسکراتی ہی رہیکون جانے کتنی ہے مظلوم ماں
کھولیں ←
تبصرہ