کوئے محبت
تری یادوں کی خوشبو سے مہکتی ہے مری تنہائیکوئی صورت اُبھرتی ہے، نمی آنکھوں میں جب آئیمحبت کوئی سودا ہے نہ دنیا کی کوئی خواہشیہ وہ رستہ ہے جس میں بس خدا کی ہے خدائیسنا ہے عشق میں ہوش و حواس اپنے نہیں رہتےکہ دل کے شہر پر جب بھی کوئی آفت ہی منڈلائیسمندر دل میں پلتے ہیں، مگر ہونٹوں پہ خاموشیعجب ہے عشق کا رستہ، عجب اس کی شناسائیسنبھل کر چلنا، اے حرفِ روح! کوئے محبت میںیہاں ہر موڑ پر ملتی ہے اکثر دل کو رسوائی
ح حرفِ روح ✍️تمام کلام ←
نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!