میرا جنازہ
میں نے جب بھی تجھے بھولنا چاہا، تو تو اور یاد آیامیری آنکھوں میں تیرے نام کا چشمہِ نور بھر آیاتیرے جانے کے بعد اس گھر میں کوئی نہ آیافقط تیرا غم ہی مہمان بن کر میرے گھر آیاجانا ہی تھا تو دھیرے دھیرے جاتااچانک جو پہاڑ گرایا تو میرا دم نکل آیااے میرے طبیب تو کتنی آسانی سے چھوڑ گیا مجھےدرد ہوتا تھا تو میں تو بس تیرے پاس ہی آیامجھے افسوس ہے تیری اس بہادری پرمجھے بھول جانے کا حوصلہ تجھے کہاں سے آیاتیرا تو ایک پل نہ گزرتا تھا میرے بنتجھے میرے بن رہنے کا ہنر کس نے سکھایامیں تو بے وفا نہ تھا، تو یہ سزا کیوں ملی مجھےتیرا گھر بسا اور زکٓر کا جنازہ نکل آیا
— محمد زکریا زکٓر
نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں


تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!