دو لائن آنکھیںہجرتپردیسگھر کی دہلیز پہ رکھ آئے تھے آنکھیں اپنیپردیس میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں وہ راتیں اپنی نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں4 دن پہلے1 بیت بازی: اگلا شعر «ی» سے 0 کاپی واٹس ایپ تصویر بنائیں Facebook X Telegram Copy link تبصرے (0) More… Facebook X Telegram
ااردو والی پوئٹریکلفالو کریں دو لائن آنکھیں تمہارے بعد بھی آنکھوں میں اک دیا سا ہےیہ دل کا شہر ابھی تک ذرا بسا سا ہے کھولیں ←
ااردو والی پوئٹری2 دن پہلےفالو کریں دو لائن آنکھیں ہم نے ہر زخم کو ہنس ہنس کے چھپایا برسوںآج اک بات پہ آنکھوں نے بتایا سب کچھ کھولیں ←
ااردو والی پوئٹری3 دن پہلےفالو کریں دو لائن آنکھیں منزلیں ان کو ہی ملتی ہیں جو چلتے ہیںخواب آنکھوں میں نہیں، پاؤں میں پلتے ہیں کھولیں ←
مرزا غالبMirza Ghalib دو لائن آنکھیں رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہےरगों में दौड़ते फिरने के हम नहीं क़ाइलजब आँख ही से न टपका तो फिर लहू क्या हैRagon mein daudte phirne ke ham nahin qaailJab aankh hi se na tapka to phir lahu kya hai کھولیں ←مرزا غالب
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!