دو لائن اندازاپنی شرطوں پہ جیے ہیں، یہی پہچان رہیہم نے جھک کر کوئی دستار نہیں لی اب تکApni sharton pe jiye hain, yahi pehchan rahiHam ne jhuk kar koi dastaar nahin li ab tak نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں14 Oct 20261 بیت بازی: اگلا شعر «ک» سے 0 کاپی واٹس ایپ تصویر بنائیں Facebook X Telegram Copy link تبصرے (0) More… Facebook X Telegram
لاگ2 گھنٹے پہلےفالو کریں دو لائن انداز رو پڑوں گا جو مجھے اور سراہا تو نےاتنی عزت کی تو عادت بھی نہیں ہے مجھ کو کھولیں ←
ااردو والی پوئٹری5 دن پہلےفالو کریں دو لائن انداز ہم نے جھکنا نہیں سیکھا کسی دربار کے آگےسر اٹھا کے جیتے ہیں ہر اک دیوار کے آگےHam ne jhukna nahin seekha kisi darbar ke aageSar utha ke jeete hain har ik deewar ke aage کھولیں ←
مرزا غالبMirza Ghalib دو لائن انداز ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اورहैं और भी दुनिया में सुख़न-वर बहुत अच्छेकहते हैं कि 'ग़ालिब' का है अंदाज़-ए-बयाँ औरHain aur bhi duniya mein sukhan-var bahut achchheKahte hain ki 'Ghalib' ka hai andaaz-e-bayaan aur کھولیں ←مرزا غالب
ااردو والی پوئٹری14 Oct 2026فالو کریں دو لائن انداز ہم وہ دریا ہیں جو رستہ خود بنا لیتے ہیںہم کو روکو گے تو طوفان اٹھا لیتے ہیںHam wo dariya hain jo rasta khud bana lete hainHam ko rokoge to toofan utha lete hain کھولیں ←
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!