سکھا گیا ہے وہ کیا کیا مجھے عداوت میں
سکھا گیا ہے وہ کیا کیا مجھے عداوت میں،مرا وہ ایک عدو دوست تھا حقیقت میں۔تب اُس نے کھل کے نبھائی تھی دشمنی اپنی،میں ہو گیا تھا گرفتار جب محبت میں۔تھا کس پہ اپنی سخا کا بڑا گھمنڈ مجھے،میں اپنا آپ کسے دے گیا سخاوت میں۔یہاں پہ اتنی بھی ایمانداری اچھی نہیں،ذرا سا جھوٹ ملایا کرو صداقت میں۔
نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں


تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!