ادھوری محبت
ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھاپر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھادو بول بھی میٹھے نہ تھے ہم کو میسریعنی ہمیں تنکے کا سہارا بھی نہیں تھااس وقت کے صدموں نے مجھے چاٹ لیا ہےجو وقت ابھی میں نے گزارا بھی نہیں تھاکیا دن تھے کہ غم ہو کے خوشی دوست ہو کہ دشمنجوتیرا نہیں تھا وہ ہمارا بھی نہیں تھااس شخص نے زندہ بھی نہیں چھوڑا تھا مجھ کوحالانکہ مجھے جان سے مارا بھی نہیں تھا
نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!