اردو والی پوئٹریUrdu Wali Poetryउर्दू वाली पोएट्री
واپس

انصاف کا ترازو

ہر ایک شخص کو انصاف کی طلب تو بہت ہےمگر ترازو میں اپنا ہی پلڑا بھاری رکھتا ہےیہاں ضمیر بھی بِک جاتا ہے چند سکّوں میںہر ایک شخص مگر پارسائی کا بھرم رکھتا ہےکسی کے درد پہ جو عمر بھر رہا خاموشوہ اپنے زخم پہ ہمدردی کی امید رکھتا ہےیہاں اصول بھی بدلتے ہیں مصلحت کے ساتھہر ایک شخص مگر حق کا بلند عَلَم رکھتا ہےجو دوسروں کے گناہوں پہ فیصلے لکھتا ہےوہ اپنے عیب پہ خاموشیوں کا پہرا رکھتا ہےجو ظلم دیکھ کے خاموش ہو گیا کل تکوہ اپنی باری پہ فریاد کا ارادہ رکھتا ہےحسنؔ، عجیب رسم ہے اس دور کی عدالت میںجو ہاتھ خون سے تر ہے، وہی ترازو رکھتا ہےمیر حسنؔ

نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر حسنؔ
پوسٹ کیا
میر حسنؔ

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا اپنا ہی انتخاب ہے۔ اردو زبان سے گہری محبت اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق ہے۔…

تبصرے (0)

سب سے پہلے داد دیں!

ہمارے شعراء

چینل جوائن کریں