ہم اپنے درد کو لفظوں میں ڈھال جائیں گے،کبھی تو ہم بھی زمانے کو یاد آئیں گے۔ہماری خاموشی کو کم نہ سمجھنا لوگو،ہم اپنے وقت پہ تاریخ بن کے چھا جائیں گے۔جو آج دیکھتے ہیں ہم کو حقیر نظروں سے،وہ کل ہماری مثالیں بھی دے کے جائیں گے۔ہمیں گرا کے زمانہ یہ سوچتا ہے کیا؟ہم خاک سے بھی نئے راستے بنائیں گے۔ہماری پہچان فقط نام سے نہیں ہوگی،ہم اپنے لفظوں سے دلوں میں گھر بنائیں گے۔
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!