
امید نہیں مقصد
وہ جو پیالوں میں چھلکتا ہے شراب تم ہومیرے آنکھوں میں چمکتا ہوا ہر خواب تم ہومیرے چہرے کی تبسم،محفل میں خوشامد کو نہ دیکھمیرے روٹھے ہوئے ہجر کی ہر رات تم ہومیری چاہت کو فقط حادثہ ءِ حال نہ سمجھمیرے ماضی کے تہجد میں جو فریاد ہے تم ہومیرے انداز ِبیاں اور ادب کی روانی پہ نہ جامیرے تخیل کے دریچوں کی رواداد تم ہو

تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!