
کچھ پرانے یار
وہ جو گھر سے دور تھے ہم کبھی ، وہ محبتوں کے تھے فاصلےمیرے وہم و گماں میں ہے اب تلک وہ عظیمتوں کے تھے راستےوہ محبتیں وہ لطافتیں میرے ہمنوا وہ کہاں گئے؟وہ جو وعدے فصل بہار کے میرے دلبراں وہ کجا گئے؟کبھی دل کے حال سنادئیے،کبھی غم کو ہنس کے بتادئیے۔وہ مسرتوں کے تھے قافلے میرے جانوا وہ کہاں گئے


تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!