چھوڑیئے جو گزری ھے
چھوڑیئے جو گزری ھےہم گزار پاتے کیا !خیر یہ عمر گزریرتجگے تھے آنکھوں میں خواب تھے ادھورے سے ۔۔۔۔۔۔نیںند بھی کسے آئی درد کا جو موسم تھاآج تک نہیں بدلاہم بھی تو نہیں بدلےپہلے سے کہیں زیادہ آج تم پہ مرتے ہیںاعتبار کتنا تھاچھوڑیئے نہ باتوں کواب ہمیں اصولاََ بھیتجھ کو ہی دکھانا تھا یعنی مر ہی جانا تھاخیر یہ عمر گزری
نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!