
ضلالت کے عداوت کے ہر اک اس پیار سے توبہ
ضلالت کے عداوت کے ہر اک اس پیار سے توبہجو لوٹے میری عفت کو تو ہر اک اس یار سے توبہ ۔اچانک آئے اور چھا جائے،مجھے چاہے ،کُریدے اور منا جائےپناہ رب کی ہو ایسوں سے ،منافق کی ہر اک اک چال سے توبہحریص نفس و صورت ہیں عزائم انکی شہوت ہے،سبھی یہ کذب کے دعوے ، محبت کے ہر اک دعویدار سے توبہمصائب میں بڑے ہمدم، مناقب میں بڑے پیہم،دلاسے ان کی سب جوٹھے ،مجازی عشق کے فنکار سے توبہمیری بھنا ابھی بھی کچھ نہیں گزرا ابھی بھی وقت ہے باقیکہ عالم اب بھی تیرا ہے گر کرو بدکار سے توبہہیں صدا جو پیکرشفقت،دکھائیں جو بھی دل انکاغضب رب کی ہےایسوں پہ، میری ایسی کسی گفتار سے توبہ

فریب اور منافقت سے بھرے دنیاوی تعلقات سے توبہ اور ضمیر کی بیداری کا یہ گہرا عکاس کلام بے حد متاثر کن ہے!