
اے حسیں کیا دلکش ہے تمہارا اندازِ شاہانہ
اے حسیں کیا دلکش ہے تمہارا اندازِ شاہانہبھلا پِھر کیسے نہ ہو کوئی تمھارا دیوانہکاش کہ میں دے سکتا اپنی آنکھیں تمہیںاور پھر تُم قبول کرتے انہیں بطور نذرانہمیسر رہتا مُجھے دیدار تمہارا ہمیشہ کے لیےکیا چاہے گا اِس کے سوا کوئی پروانہسنو! مجھے جواب دو؛ جو چاہے دے دو...چاہے بنا کے چلے جاؤ کوئی اور بہانہتمہارا انجان سے جان بننے تک کا سفرلکھا جائے گا کتابوں میں یہ بطورِ افسانہتمہارا وہ ٹیڑهی آنکھ سے مجھے دیکھتے رہنایاد آتا ہے مطہرؔ کو بہت وہ انداز دلبرانہ

تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!