ایک دن دنیا ہمیں بھی یاد رکھے گی
ایک دن دنیا ہمیں بھی یاد رکھے گیہماری خامشی کو بھی کبھی آواز ملے گی،ہماری داستان کو بھی نئی پرواز ملے گی۔ابھی تو دھول جمی ہے ہمارے نام کے اوپر،کسی دن اس زمانے میں ہماری بات چلے گی۔ہم اپنے درد کا چرچا نہیں کرتے زمانے میں،مگر آنکھوں کی نمی سے ہر حقیقت جان لے گی۔جو آج ہماری محنت کو نظرانداز کرتے ہیں،کل اُن کی محفلوں میں بھی ہماری بات ہوگی۔ہمیں شہرت کی خاطر اپنے اصولوں سے نہیں لڑنا،ہماری سچائی ہی اک دن ہماری پہچان بنے گی۔نہ دولت سے، نہ طاقت سے، نہ جھوٹی شان سے ہم،ہماری عزت اپنے کردار سے پہچانی جائے گی۔یہ وقت آج بے شک آزماتا ہے ہمیں لیکن،ہماری محنت اک دن رنگ ضرور لائے گی۔ہمیں بھولے گا کیا زمانہ، اے گردشِ دوراں؟ہماری یاد آنے والی نسلوں تک جائے گی۔
نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!