
اہل دل ہوں نہ محبت کا جنوں ہے مجھے
اہل دل ہوں نہ محبت کا جنوں ہے مجھےآتش غم میں جُھلستا ہوا یاد ان کا لہو ہے مجھےانکے آہوں سے لرزتا ہوا میں نے سماں کو دیکھاانکی نصرت کو اتر تے ہوئے میں نے خدا کو دیکھااہل ایماں ہیں کہ بے حس ہیں، مراعات عدو میں ہیں مدہوشاور ظالم ظلمِ قیامت ڈھائے ہوئے کس شان سے روپوشاب نہ آئے گا کوئی ایوبی و سالار یہاںبس اپنی ہی قوت بازو سے تو للکار جواںوہ جو قوت فولاد عدو ہے جنوں میں ہیںتو بندہ مومن ہے تو ایماں تیری رگوں میں ہےتاریخ کے اوراق پلٹ کچھ اپنے ہی ماضی کو ذرا دیکھجنگی اثاثہ گرچہ نہیں کچھ، وہ پھر بھی صفوں میں ہےدِکھ جائے گا تجھ کو جہاں، مسجد کے مصلے سے ذرا اٹھہوتا ہے یہاں کیا عابد کے تو کُنبے سے ذرا اٹھتدریس کا منصب بھی بجا ہے، ہاں جیہاد قلم بھی ہےمقصود خدا موجود ہے اس میں پر خود کا صنم بھی ہےہوتا ہے یہاں کیا شمشیر زنیٰ کو ذرا دیکھگرتے ہوئے اس کے لہو میں دیں کی بقا دیکھمسجد کی تو دہلیز کو چھوڑ تقریر نہ کرتھامے ہوئے تو شمشیر کو چل، تاویل نہ کرمقصود رضا شامل حال ہے اس میں، اسلام علم بھی ہےگرتا ہے لہو تو ہی مٹتا ہے عدو، وعدہ رب کی قسم بھی ہے

امت کی بیداری، غیرتِ ایمانی اور عملی جہاد کا یہ پرجوش ترانہ روح میں نیا ولولہ پیدا کر دیتا ہے!