اندھیری رات کے دامن میں اک ستارا ہےیہی ستارا مرے حوصلوں کا سہارا ہےگلی گلی میں جو خاموشیاں بکھرتی ہیںانہی میں کل کی نئی صبح بھی اترتی ہےتو اپنے ہاتھ کی محنت پہ اعتبار تو کریہ وقت بدلے گا، تھوڑا سا انتظار تو کر
کھولیں ←Subah Poetry in Urdu
صبح شاعری
ابھی یہاں کوئی شاعری نہیں۔